اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا


اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا
#1
New1 

اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا
مقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کا

اب کوچ کرو یارو صحرا سے کہ سنتے ہیں
صحرا میں اب آئندہ محمل نہیں آنے کا

واعظ کو خرابے میں اک دعوت حق دی تھی
میں جان رہا تھا وہ جاہل نہیں آنے کا

بنیاد جہاں پہلے جو تھی وہی اب بھی ہے
یوں حشر تو یاران یک دل نہیں آنے کا

بت ہے کہ خدا ہے وہ مانا ہے نہ مانوں گا
اس شوخ سے جب تک میں خود مل نہیں آنے کا

گر دل کی یہ محفل ہے خرچہ بھی ہو پھر دل کا
باہر سے تو سامان محفل نہیں آنے کا

وہ ناف پیالے سے سرمست کرے ورنہ
ہو کے میں کبھی اس کا قائل نہیں آنے کا
Reply

Possibly Related Threads...
Thread / Author Replies Views Last Post
Last Post by nadan40
29-10-2018, 11:57 PM
Last Post by Tashumalik
01-10-2018, 01:25 AM
Last Post by Admin
29-09-2018, 08:48 PM
Last Post by Devil
26-09-2018, 08:01 PM



Users browsing this thread: 1 Guest(s)