آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیا


آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیا
#1
New1 

آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیا
تذکرۂ خجستۂ آب و ہوا نہیں کیا

کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی
تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا

جانے تری نہیں کے ساتھ کتنے ہی جبر تھے کہ تھے
میں نے ترے لحاظ میں تیرا کہا نہیں کیا

مجھ کو یہ ہوش ہی نہ تھا تو مرے بازوؤں میں ہے
یعنی تجھے ابھی تلک میں نے رہا نہیں کیا

تو بھی کسی کے باب میں عہد شکن ہو غالباً
میں نے بھی ایک شخص کا قرض ادا نہیں کیا

ہاں وہ نگاہ ناز بھی اب نہیں ماجرا طلب
ہم نے بھی اب کی فصل میں شور بپا نہیں کیا
Reply

Possibly Related Threads...
Thread / Author Replies Views Last Post
Last Post by nadan40
29-10-2018, 11:57 PM
Last Post by Tashumalik
01-10-2018, 01:25 AM
Last Post by Admin
29-09-2018, 08:48 PM
Last Post by Devil
26-09-2018, 08:01 PM



Users browsing this thread: 1 Guest(s)